ڈھاک کی وجہ تسمیہ
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہر گائوں یا شہر کا نام کسی خاصیت پر رکھا جاتا ہے جیسا کہ مشہور ہے کہ خوشاب کا نام میٹھے پانی کی وجہ سے (خوش آب) رکھا گیا،
اسیطرح ہر گائوں یا شہر کا نام کسی نہ کسی خوبی یا شخصیت پر رکھا گیا،ڈھاک کا نام کی وجہ تسمیعہ کسی کتاب میں تو نہ ملی لیکن بابا جات سے معلوم ہوا ہے کہ
انگریز دور میں جب جنگیں ہوا کرتیں تھیں تو اس وقت کے جو فاتحین تھے وہ اس گاؤں یا علاقے پر قبضہ جما لیتے تھے ڈھاک وہ واحد قصبہ یا گاؤں تھا جس میں چند لوگ آباد تھے لیکن وہ بہت ہی بہادر اور دلیر تھے ویسے ان میں بہت زیادہ اتفاق تھا اس گاؤں کا اپنا کوئی نام نہیں تھا کیونکہ جو بھی جنگ جہاں سے شروع ہوتی وہ یہاں پر آکر ختم ہوجاتی یا رک جاتی اس وجہ سے لوگ اس گاؤں کو دھاک کہنے لگے جب یہ لفظ زیادہ عام ہوگیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور کثرت استعمال کی وجہ سے دھاک سے ڈھاک میں تبدیل ہوگیا، بابے اس بات کا کوئی خاص ٹھوس شواہد تو پیش نہ کر سکے البتہ اس بات سے مطمئن ضرور کیا کہ کیا جنجوعہ برادری کی بہادری پر شک ہے اور ساتھ ہی سکندر اعظم اور راجہ پورس کا قصہ چھک دیا کہ کس طرح ہاتھیوں کی بیوفائی سے راجہ پورس کو شکست ہوئی لیکن اس کی دلیری اور ہمت نے اس کی ہار کو بھی جیت میں بدل دیا اور دنیا آج بھی راجہ پورس کی دلیری کے گن گاتی ہے مختصر یہ کہ بابائوں کے اس نظرئیے سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے لیکن ان کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔۔۔
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہر گائوں یا شہر کا نام کسی خاصیت پر رکھا جاتا ہے جیسا کہ مشہور ہے کہ خوشاب کا نام میٹھے پانی کی وجہ سے (خوش آب) رکھا گیا،
اسیطرح ہر گائوں یا شہر کا نام کسی نہ کسی خوبی یا شخصیت پر رکھا گیا،ڈھاک کا نام کی وجہ تسمیعہ کسی کتاب میں تو نہ ملی لیکن بابا جات سے معلوم ہوا ہے کہ
انگریز دور میں جب جنگیں ہوا کرتیں تھیں تو اس وقت کے جو فاتحین تھے وہ اس گاؤں یا علاقے پر قبضہ جما لیتے تھے ڈھاک وہ واحد قصبہ یا گاؤں تھا جس میں چند لوگ آباد تھے لیکن وہ بہت ہی بہادر اور دلیر تھے ویسے ان میں بہت زیادہ اتفاق تھا اس گاؤں کا اپنا کوئی نام نہیں تھا کیونکہ جو بھی جنگ جہاں سے شروع ہوتی وہ یہاں پر آکر ختم ہوجاتی یا رک جاتی اس وجہ سے لوگ اس گاؤں کو دھاک کہنے لگے جب یہ لفظ زیادہ عام ہوگیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور کثرت استعمال کی وجہ سے دھاک سے ڈھاک میں تبدیل ہوگیا، بابے اس بات کا کوئی خاص ٹھوس شواہد تو پیش نہ کر سکے البتہ اس بات سے مطمئن ضرور کیا کہ کیا جنجوعہ برادری کی بہادری پر شک ہے اور ساتھ ہی سکندر اعظم اور راجہ پورس کا قصہ چھک دیا کہ کس طرح ہاتھیوں کی بیوفائی سے راجہ پورس کو شکست ہوئی لیکن اس کی دلیری اور ہمت نے اس کی ہار کو بھی جیت میں بدل دیا اور دنیا آج بھی راجہ پورس کی دلیری کے گن گاتی ہے مختصر یہ کہ بابائوں کے اس نظرئیے سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے لیکن ان کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔۔۔
ڈھاک جنجوعہ میں ذیادہ تر جنجوعہ راجگان برادری ہے اس کے علاوہ سید،مسلم شیخ،بھٹی،کبھار،کھوکھر،مراثی،حجام،موچی،ماچھی و دیگر قوم کے لوگ بھی رہتے ہیں
ڈھاک جنجوعہ راجگان کی صدیوں سے یہ آٹھ برادریاں ہیں، جو جھگیاں ، ڈھاک میں قیام پذیر ہیں
جن میں
1) نجیال
2) فتیال
3) کرمال
4) بگیال
5) مدوال
6) سرپھال
7) لدھیال
8) بکھیال
9) کھریا
جن میں
1) نجیال
2) فتیال
3) کرمال
4) بگیال
5) مدوال
6) سرپھال
7) لدھیال
8) بکھیال
9) کھریا

No comments:
Post a Comment